Wednesday, 22, Feb 2012
تازہ ترین قومی خبریں امریکی شہری کو پشاور ائیر پورٹ پر ملک چھوڑنے سے روک دیا
پشاور…امریکی شہری مارک ڈی ہیون کو ایف آئی اے نے پشاور ائیر پورٹ پر امریکہ جانے سے روک دیا۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق امریکی شہری مارک ڈی ہیون پشاور ائیر پورٹ سے دوبئی کے راستے امریکہ واپس جارہے تھے کہ ایف آئی اے نے انکو وطن واپس جانے سے روک دیا۔ ایف آئی اے کے مطابق مارک ڈی ہیون بلیک لسٹ ہیں۔اس لئے مارک کو وطن واپس جانے سے روکا گیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق مارک ڈی ہیون کے حوالے سے جیسے وزارت داخلہ کی جانب سے تصدیق کی گئی۔ انکو وطن واپس جانے دیا جائے گا۔امریکی شہری مارک ڈی ہیون کو چند ماہ قبل پشاور پولیس نے چودہ فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے ان پر مقدمہ درج کیا تھا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق آج کسی بھی وقت مارک ڈی ہیون کو وزارت داخلہ سے تصدیق ہونے کے بعد وطن واپس جانے دیا جائے گا ۔
|
تازہ ترین قومی خبریں کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ جاری
کراچی…کراچی کے مختلف علاقوں میں کیبل فالٹس کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ جاری ہے، کے ای ایس سی انتظامیہ نے بحران کا ذمہ کے ای ایس سی لیبر یونین کی ہڑتال کو قرار دیا ہے جبکہ لیبر یونین نے الزامات کی تردید کی ہے۔کراچی میں گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کا بحران جاری ہے شہر میں کورنگی،لانڈھی ،نارتھ کراچی، ملیر، صدر، لیاری، رنچھوڑلائن، رامسوامی، پاکستان چوک، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، پی ای سی ایچ ایس، گڈاپ ٹاؤن،جمشید روڈ، ناظم آباد نمبر 1 سمیت دیگر علاقوں میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی کے شکایتی مراکز بھی بند ہیں اور کال سینٹر پر بھی مناسب جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس تمام صورت حال کے پیش نظر مشتعل افراد نے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے اور ٹائر نذر آتش کئے۔ کے ای ایس سی انتظامیہ نے بجلی کی طویل بندش کی تمام تر ذمہ داری سی بی اے لیبر یونین کی ہڑتال پر عائد کی ہے اور کہا ہے کہ یونین باقی ماندہ عملے کو بھی کیبل فالٹس کو درست کرنے سے روک رہی ہے۔ ترجمان کے ای ایس سی کا کہنا ہے کہ لیبر یونین کی مداخلت کے باعث ادارے کو نقصان اور صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پریس کلب پر ہڑتال پر بیٹھے سی بی اے لیبر یونین کے احتجاجی ملازمین نے الزامات کی سراسر نفی کی ہے۔
|
تازہ ترین قومی خبریں طالبان اب ٹوئٹر پر بھی ٹوئٹر کی مقبولیت اور رسائی اور موبائل فون سے اس کے استعمال کی سہولت نے اسے انتہاپسند اور قدامت پسند گروپوں میں مقبول بنا دیا ہے اور اب طالبان نے بھی ٹوئٹر کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے اور ان کی جانب سے اس نیٹ ورک پر کچھ پیغامات شائع کیےگئے ہیں۔
طالبان کا اپنے پیغام کو پھیلانے کے لیے ویب کا استعمال کوئی نئی بات نہیں کیونکہ یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل نیٹ ورکس کی مقبولت اور وسیع رسائی کی وجہ سے ان کے پیغامات ایک بڑے طبقے تک پہنچ جاتے ہیں۔
سوشل نیٹ ورکس عموماً تشدد اور نفرت کو پرچار کرنے والے صفحات اور گروپس کے خلاف کارروائی تو کرتے ہیں لیکن پھر بھی ایسے افراد اور صفحات کچھ عرصے کے لیے ان سائٹس پر ٹک ہی جاتے ہیں۔
بی بی سی عربی کے مدیر محمد یحیٰی کے مطابق ’مثال کے طور پر ان کے لیے فیس بک پر ایسے لوگ صفحات بناتے ہیں جو انتہاپسند خیالات کے مالک ہوتے ہیں لیکن ان صفحات کو پسند کرنے والوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہوتی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عموماً اگر مداحوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگے تو لوگ اس کی شکایت کر دیتے ہیں اور یوں وہ صفحہ بند کر دیا جاتا ہے۔
مزاحمت کاروں اور انتہا پسند گروپوں کے ویب پیغامات پر نظر رکھنے والے بلاگ ’جہادیکا‘ کے بانی اور شریک مدیر ولیم مکانٹس کا کہنا ہے کہ ایسے گروپس اب فیس بک یا ٹوئٹر جیسے نیٹ ورکس پر زیادہ نہیں جاتے کیونکہ وہاں ان کے اکاوئنٹس بند کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔
تاہم ان کے مطابق یہ گروپس اب بھی خیالات کے تبادلے کے لیے استعمال کیے جانے والے ویب فورمز پر اپنے نظریات کی تشہیر کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ 2005 سے جاری ہے۔
مغربی حکومتوں کی نظر میں دہشتگرد سمجھے جانے والے گروپس اور سیاسی جماعتوں جیسے کہ حزب اللہ اور حماس نے بھی ویب پر اپنی جگہ بنائی ہے۔
لیکن انٹرنیٹ پر قدامت اور انتہا پسند پیغام ہر جانب سے آتے ہیں۔ چاہے وہ سپر میسٹس ہوں یا کلوکلس کلان، ہر قسم کے مسلم اور صہیونی مخالف گروپ ویب پر اپنے خیالات کے پرچار میں کوئی مشکل محسوس نہیں کرتے اور ایک جائزے کے مطابق انٹرنیٹ پر ایسے گروپس کی تعداد میں ایک برس کے دوران بیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
ماضی میں کولمبین گوریلا گروپ فارک جیسی تنظیموں نے بھی اپنی باقاعدہ ویب سائٹس بنا رکھی تھیں۔ یہ ویب سائٹس تو اب بند ہو چکی ہیں لیکن ان تنظیموں نے اپنے پیغام کی ترسیل کے لیے ویب نیوز ایجنسی این کول کی شکل میں اس کا متبادل تلاش کر لیا ہے۔.
ٹوئٹر پر بھی آپ کو فارک جیسے گروپس ملتے ہیں لیکن یہاں یہ تنظیم کی شکل میں نہیں بلکہ انفرادی اکاؤنٹس کی صورت میں موجود ہیں۔
کیا یہ ایک چلن ہے؟ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا لیکن ان نیٹ ورکس پر ان تنظیموں کے ہمدردوں کا پایا جانا ان کے لیے نئے ساتھی تلاش کرنے کا ایک پرکشش ذریعہ ہے اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا ذرائع اس قسم کے کام کے لیے بہترین جگہ ہیں۔ |
تازہ ترین قومی خبریں تربیت مکمل کرکے گھر جارہے تھے کہ۔۔۔ شب قدر دھماکوں کے زخمیوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں دھماکے چار پانچ منٹ کے وقفے سے یکے بعد دیگر ہوئے اور چند منٹوں تک تو ارد گرد کچھ نظر نہیں آرہا تھا ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا اور فضا میں گرد وغبار چھایا ہوا تھا۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زیر علاج ضلع ہنگو کے علاقے زرگری سے تعلق رکھنے ایک ایف سی اہلکار محمد سردار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شب قدر میں چھ مہینے کی تربیت مکمل کرکے چھٹی پر گھر جارہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’ ہم بڑے خوش تھے کیونکہ ٹریننگ کے بعد ہم نے پہلی مرتبہ ڈیوٹی پر جانا تھا ہمارے لیے تو یہ اہم موقع تھا، عید سے کم نہیں تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ان کی یہ خوشی اس طرح غم میں بدل جائی گی کہ وہ ساری زندگی اس کو بھلا نہ پائیں گے۔
ہم بڑے خوش تھے کیونکہ ٹریننگ کے بعد ہم نے پہلی مرتبہ ڈیوٹی پر جانا تھا ہمارے لیے تو یہ اہم موقع تھا، عید سے کم نہیں تھا
محمد سرادر، ایف سی کے زخمی اہلکار
محمد سردار کے مطابق جس وقت پہلا دھماکہ ہوا اس وقت وہاں تربیتی مرکز کے سامنے کوئی بیس سے تئیس کے قریب گاڑیاں موجود تھیں اور ان سب میں ایف سی اہلکار اپنے اپنے سامان ڈال کر جانے کی تیاری کررہے تھے۔
انہوں نے کہا دھماکے اتنے زوردار تھے کہ ایک لمحے کےلیے ایسا لگا جیسے وہاں کھڑے تمام افراد زمین پر گِر گئے ہوں اور ہر طرف انتہائی افراتفری کا ماحول تھا۔
کوہاٹ کے ڈوڈا کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک زخمی محمد خالد نے بتایا کہ دو تین منٹ پہلے ان کو بتا دیا گیا تھا کہ ان کی چھٹی منظور ہوچکی لہذا وہ گھر جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی دیگر ساتھیوں کی طرح گھر جانے کےلیے بڑے خوش تھے کیونکہ کئی ماہ کے بعد جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں دھماکے چند منٹوں کے وقفے کے دوران یکے بعد دیگر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگا جیسے پہلہ دھماکہ وہاں سڑک پر رکھے ہوئے کسی بم سے کیا گیا ہو کیونکہ وہاں کوئی حملہ آوار دیکھنے میں نہیں آیا جبکہ دوسرا حملہ خودکش حملہ آوار نے گاڑیوں کے قریب آکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انھیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ دھماکے کس طرح اچانک ہوئے۔
جو کچھ ہوا شاید وہ سب اللہ کو منظور تھا لیکن سرکاری نوکری کبھی نہیں چھوڑیں گے اور ملک و قوم کی خدمت آخری دم تک کرتے رہیں گے
رحمان اللہ، ایف س کے زخمی اہلکار
دھماکے میں زخمی ہونے والے ضلع بنوں کے ایک ایف سی اہلکار رحمان اللہ نے کہا کہ ان کے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ تربیت پانے والے اہلکاروں پر اس طرح حملہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلا دھماکہ جب ہوا تو انھیں صرف اتنا یاد ہے کہ وہاں کھڑے افراد گر رہے تھے اور اس کے بعد انہیں کوئی ہوش نہیں رہا اور جب انکھ کھولی تو ہسپتال میں تھا۔
ان کے مطابق انھیں ابھی کچھ معلوم نہیں کہ ان دھماکوں نے ان کے کتنے دوستوں کی جان لی ہے اور کتنے زخمی ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ ان دھماکوں کےلیے وہ کس کو ذمہ دار سمجتھے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ کچھ نہیں جانتے کہ یہ دھماکے کس نے کیا اور کیوں کئے۔
رحمان اللہ نے مزید بتایا کہ جو کچھ ہوا شاید وہ سب اللہ کو منظور تھا لیکن وہ سرکاری نوکری کبھی نہیں چھوڑیں گے اور ملک و قوم کی خدمت آخری دم تک کرتے رہیں گے۔ |
تازہ ترین قومی خبریں کراچی:اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ہاتھوں ڈی ای او کا قتل
کراچی ... کراچی میں گرومندر کے قریب ایجوکیشن آفس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرنے فائرنگ کر کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کو قتل کردیا اور فرار ہوگیا۔پولیس کے مطابق گرومندر کے قریب واقع ایجوکیشن آفس میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر ذوالفقار نے فائرنگ کر کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر ویسٹ صادق قریشی کو زخمی کردیا اور فرار ہو گیا، صادق قریشی کو اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز کے مطابق ایک گولی ان کے سر میں اور ایک سینے میں لگی ،جس کے باعث وہ دوران علاج چل بسے، رابطہ کرنے پر ایس ایس پی جمشید ٹاؤن عامر فاروقی نے جیو نیوز کو بتایا کہ ابتدائی طور پر واقعہ دشمنی کا نتیجہ لگ رہا ہے،کیونکہ ٹرانسفر پوسٹنگ کے حوالے سے تنازعہ چل رہا تھا، تاہم ا بھی تک قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے،ایس ایس پی عامر فاروقی نے بتایا کہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لئے ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
|
|